fbpx

Faqeer Nagri

0 Ratings

اسلام ایک نظرئیے کا نام ہے اور اس نظرئیے کے ماننے والے اپنے جذبات کو تحریروں میں ظاہر کرتے ہیں یا وعظ و نصیحت کی مجلسوں میں۔ اسی لیے علماء و مشائخ اور صوفیا نے اپنے خیالات پر مشتمل کتابوں کے انبار لگا دیے۔ کتب خانے ان کی کتابوں سے بھرے پڑے ہیں اور ان

Add to BookShelf

Overview

اسلام ایک نظرئیے کا نام ہے اور اس نظرئیے کے ماننے والے اپنے جذبات کو تحریروں میں ظاہر کرتے ہیں یا وعظ و نصیحت کی مجلسوں میں۔ اسی لیے علماء و مشائخ اور صوفیا نے اپنے خیالات پر مشتمل کتابوں کے انبار لگا دیے۔ کتب خانے ان کی کتابوں سے بھرے پڑے ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک روایت ہے جس کا سلسلہ جاری ہے۔ کچھ تحریریں تو ان صوفیا نے خود مرتب کیں اور کچھ ان کے عقیدت مندوں نے اور شاید ہی کوئی صوفی ایسا گزرا ہو جس کے جذبات اور قلبی کیفیات سے ہم مطلع نہ ہوں۔ ان خوبصورت ذہن والوں نے انسانوں کے لطیف جذبات سے بات کرنے کے لیے شاعری بھی کی ہے دیوان مرتب کیے ہیں اور مثنویاں بھی۔ حضرت داتا صاحب کا دیوان تو لاہور میں کسی نے چرا لیا تھا جس کا انھیں دکھ رہا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کی اشاعت اور اس کے ماننے والوں میں صوفیاء کا بہت بڑا حصہ ہے اور خوش نصیب ہیں اس خطے کے ہم لوگ جو صوفیائے کرام کے فیض سے اسلام کی سیدھی راہ پر چلے اور ان راہوں کو مزید کشادہ کیا۔ نہیں معلوم ہم اس نعمت کے حقدار تھے یا نہیں لیکن واقع ہے کہ دنیائے تصوف کی پانچ بڑی کتابوں میں سب سے بڑی کتاب کا مصنف لاہور میں محو خواب ہے اور اس خطے کے ایک بڑے صوفی کے بقول وہ مظہر نور خدا ہے اور عالم کے لیے فیض کا سر چشمہ ہے۔ ہم ان کے عرس سے دو چار دن پہلے فارغ ہوتے ہیں۔ علی ہجویری عرف حضرت داتا گنج بخش۔ ان کے دربار پر خزانے اور فیض کے سرچشمے کا منہ کھلا ہے اور اس فیض سے جھولی بھرنا اپنی اپنی قسمت۔

صوفیاء کی تحریر وتصنیف کی یہ قدیم روایت ہمارے سامنے نئی زندگی پا رہی ہے میرے کرم فرماء اور رہنما سید سرفراز شاہ کی اس سلسلے کی تیسری تصنیف میرے سامنے ہے۔ ’فقیر نگری‘ جو ملک بھر کے کتب خانوں میں موجود ہے۔ قبلہ شاہ صاحب کی پہلے کی دو کتابوں کی طرح یہ بھی ان کے لیکچروں پر مشتمل ہے۔ شکریہ شاہ صاحب کے ان عقیدت مندوں کا جنہوں نے ان کے ملفوظات کو سلیقے سے جمع کر دیا ہے اور انھیں ہم لوگوں کے سپرد کر دیا ہے اس صوفی کی تصدیق کے ساتھ۔ میں قبلہ شاہ صاحب سے اپنے پہلے تعلق کی روداد بیان کر چکا ہوں جس کی حیرت اب تک میرے دل و دماغ میں باقی ہے میرے حواس پر چھائی ہوئی ہے۔ انھوں نے میرے ایک دوست کے ذریعے مجھے طلب کیا اور حضور پاک ﷺ کی بار گاہ میں میری فریاد کو میرے سامنے بیان کیا۔
حضورﷺ کے حجرے کی جالی کے سامنے میں نے جو کچھ عرض کیا تھا جو داد و فریاد کی جس طرح میں نے پگھل کر رحمت اللعالمین سے رحمت کی بھیک مانگی تھی یہ سب میری ذات تک محدود تھا بلکہ یہاں متعین سعودی اہلکار مجھے یہاں سے ہٹا کر میرا رخ دوسری طرف موڑتے رہے کہ قبلہ میرے پیچھے ہے صرف روضہ مبارک میرے سامنے ہے لیکن میں نے کسی کی ایک نہ مانی، میں اس کیفیت میں ہی نہیں تھا کہ کچھ اور سن پاتا یا کسی دوسری طرف توجہ کر سکتا چنانچہ کچھ وقت ان جالیوں کے سامنے روتے پیٹتے گزر گیا اور واپس لاہور آگیا۔

روضہ مبارک کی زیارت کی سرشاری سے نہال اور نڈھال۔ مجھے نہیں معلوم اس وقت سید سرفراز شاہ نامی کوئی شخص وہاں موجود تھا یا نہیں اگر تھا بھی تو کس کو اتنی ہوش کہاں کہ وہ کسی دوسرے کی فریاد سن سکے لیکن قبلہ شاہ صاحب نے اس کے کچھ وقت بعد مجھے اصرار کر کے بلایا اور بتایا کہ آپ کی دعا قبول کر لی گئی ہے۔ اب میں آپ کو یہ نہیں بتا سکتا کہ قبولیت کی اس نعمت نے مجھے کیا کیا جلوے دکھائے ہیں لیکن بات قبلہ شاہ صاحب کی ہے کہ انھوں نے مجھ سے اس طرح میری فریاد اور طلب کو بیان کیا جیسے وہ سن رہے تھے۔ اس دن پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ جو لوگ صاحب کشف ہوتے ہیں وہ کیا ہوتے ہیں اور ان کی دربار نبوت تک بھی رسائی ہوتی ہے۔

BOOK DETAILS
  • Hardcover: NA
  • Publisher: NA
  • Language: NA
  • ISBN-10: NA
  • Dimensions: NA
Customer Reviews

Average customer rating

0 Ratings
Be the first to review “Faqeer Nagri”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

There are no reviews yet.

SHARE THIS BOOK

Registration

Forgotten Password?